“ڈیپریشن
“ڈیپریشن”
یہ لفظ آج کل اتنا عام ہے۔ ہر کوئی بِناء سجھے، بِناء جانے اس کا استعمال کرتا ہے۔
آخر یہ ہے کیا؟
ڈیپریشن بے بسی اور مایوسی کا نام ہے۔
انبیاء کرام، صحابه کرام پر بے انتهاء مشکلیں آئیں، وه ڈیپریشن کا شکار کیوں نهیں ہوئے؟
کیا کوئی مسلمان اللّٰہ سبحان وتعالیٰ کے ہوتے ہوئے بے بس، مایوس ہو سکتا ہے؟
کیا کوئی اللّٰہ کی ذات کو جانتے ہوۓ اُس کی رحمت سے مایوس ہو سکتا ہے؟
ڈیریشن کی کئی وجوہات ہیں:
۱- بہت زیاده حساس ہونا۔
۲- بہت اَنا پرست ہونا۔
۳۔ مرضی کے خلاف بات برداشت نا کرنا۔
۴۔ غیر متوقع نتائج کو قبول نا کرنا۔
۵۔ ماضی کو حال سے بہتر سمجھنا۔
۶۔ حال سے شکوه کرتے رہنا۔
۷۔ پرفیکشن کو معیار سمجھنا اور پھر حسرت کا شکار رہنا۔
ان سب باتوں کے پیچھے کیا ہے؟
الله کی ذات کو مکمل نا پهچاننا۔
تقدیر پر کمزور ایمان۔
توکل للہ کی کمی۔
جہاں الله سے تعلق کمزور ہوا، وہیں شیطان نے اپنا ڈیره جما لیا۔ شیطان مایوس نے مایوس کر دیا۔
نا شُکرا پن اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ہاتھ میں موجود نعمتیں معمولی لگتی ہیں اور سوچ میں بس وہی چیز ہوتی ہے، جو چاہیئے یا جو نهیں ہوتی۔ وہی حسرت دل و دماغ یہاں تک کہ جسم کو بھی جکڑ لیتی ہیں اور ہم اپنی سوچ کے غلام ہو کر ره جاتے ہیں۔
الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
میں نے زندگی موت بنائی، جو آزمائش ہے۔
تم آزمائے جاؤ گے بھوک سے، خوف سے مال کے نقصان سے اولاد اور ہر نعمت کا ملنا نه ملنا ہر صورت آزمائش ہے۔
اللہ کا انسان کو اولاد دینا بھی آزمائش ہے اور اولاد نہ دینا بھی آزمائش ہے کہ دیکھے جس حال میں اس نے اپنے بندوں کو رکھا ہے، کیا وہ اس کا شُکر ادا کرتے ہیں کہ نہیں؟
کیا ہر حال میں اس سے راضی ہیں کہ نہیں؟
اللہ پاک قرآن میں ارشاد فرماتا ہے کہ تم پر کوئی بوجھ تمهاری برداشت سے بڑھ کر نهیں ڈالوں گا۔ بوجھ ڈل جائے تو نماز اور صبر سے مدد لو۔ جو مجھ پر بھروسہ کرے، میں اس کے لیے کافی ہوں۔
کون ہے! جو بےقرار کے دل کی دعا سُنتا ہے، جب کہ وه پکارے۔
سوچیں!
شیطان کا ڈیپریشن میں جانا بنتا ہے، وه مایوس ہے، کیونکه وه نافرمان ہے اور بےبس ہے۔ کیونکه جس کا اللّٰہ نہیں، اس کا کوئی بھی نهیں۔
الحمدللّٰہ! ہمارے پاس تو الله جیسی ہستی کا ساتھ ہے۔
کیسے ہم اپنے آپ کو ڈیپریشن سے بچائیں؟
۱۔ الله اور اس کی کتاب سے رابطه مضبوط کریں۔
۲۔ ہر چیز کا مثبت پهلو دیکھیں۔
۳۔ ضروری نهیں کہ جو کوشش کی ہے۔۔۔ اس کے نتائج وہی ہوں، جیسا کہ ہم چاہتے ہیں۔
۴۔ کسی چیز کے نہ ہونے میں بھی خیر کا پہلو تلاش کریں۔ الله پاک کے بارے میں بهترین گمان رکھیں۔
۵۔ مایوس کرنے والے اور بھڑکانے والے لوگوں سے اپنے مسائل ڈسکس نہ کریں۔ بلکہ ایسے لوگوں سے بات کریں، جو آپ کو مثبت رویے کی طرف لے کر جائیں۔
۶۔ حقیقت کو قبول کرنے میں جلدی کریں۔ یہ نہیں ہو سکتا، ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسے جملے اور سوچ ڈیپریشن کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔
الله نہ کرے، اگر کسی کو ڈیپریشن ہے تو وه یہ کریں:
۱۔ اللّٰہ سے رجوع، اللّٰہ کی طرف دوڑیں۔
۲۔ نیک، نمازی، دین دار لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔
۳۔ تلاوت سُنیں اور بلند آواز میں تلاوت کریں اور قرآن و احادیث کو ترجمہ کے ساتھ پڑھ کے عمل کریں۔
۴۔ تنهاء رہنے سے پرہیز کریں۔
۵۔ جو قرآن و احادیث میں پڑھ کے عمل کریں، اسے دوسروں کو بھی بتائیں۔
۶۔ اذان دیں اور اقامت کہیں۔
۷۔ مسجد میں زیادہ سے زیادہ وقت گُزاریں۔
۸۔ کثرت سے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
۹۔ ہر وقت زبان اور دل میں اللہ کا ذکر اور درود پاک پڑھیں۔
۱۰۔ صدقہ و خیرات، مسجد کی تعمیر میں حصّہ لیں اور یہ سب کام خود اپنے ہاتھوں سے کریں۔
الله تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
(آمین یاربّ العالمین)
❥─━━═•✵⊰••⊱✵•─━━═❥
*کیا آپ نے آج درودِ پاک پڑھا؟*
*صلی اللہ علیہ والہ وسلم*
تبصرے